افغان صدر نے خطاب میں اپنے مستعفی ہونے سے متعلق کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی موجودہ حالات کی ذمہ داری قبول کی۔ قبل ازیں یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ وہ اشرف غنی ہفتے کو مستعفی ہو سکتے ہیں۔
امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ کابل کا گھیراؤ کرکے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کا جواب وہ (طالبان) بہتر دے سکتے ہیں۔ ان کا طریقۂ کار افغانستان کے دیگر علاقوں سے مختلف نہیں جہاں وہ پہلے صوبائی دارالحکومتوں کو الگ تھلگ کرتے ہیں اور بعض مرتبہ لڑائی کے بغیر ہی فورسز ہتھیار ڈال دیتی ہیں۔